HomePAKISTANعمران نئے آرمی چیف کو بھی متنازعہ بنانے پرکیوں تل گئے؟سینئر صحافی...

عمران نئے آرمی چیف کو بھی متنازعہ بنانے پرکیوں تل گئے؟سینئر صحافی انصار عباسی نے سابق وزیر اعظم کا خطرناک پلان بے نقاب کر دیا


اسلام آباد(ویب ڈیسک) سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ عمران خان ذاتی اور سیاسی مفادات کی خاطر اپنے فوج مخالف بیانیے میں اتنا آگے بڑھ گئے ہیں کہ وہ آنے والے آرمی چیف کو بھی متنازعہ بنانے پر تل گئے ہیں اور اسے ابھی سے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں

حالانکہ ایسا کرنے سے نہ صرف فوج کا نقصان ہوگا بلکہ خود عمران بھی اسکا نقصان اٹھائیں گے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ کوئی عمران کو سمجھائے کہ فوج سے انکی بڑھتی ہوئی لڑائی انکے اور پاکستان دونوں کے لیے اچھی نہیں ہے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ میں تو فوج کے حق میں ہوں، کیوں کہ فوج ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے، عمران ماضی میں خود کہا کرتے تھے کہ فوج کو کمزور کرنے کا مطلب پاکستان کو کمزور کرنا ہے جس سے ہمارا نیوکلیئر پروگرام بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ انصار عباسی کے بقول عمران کا موقف یہ ہے کہ اُن کا اعتراض فوج کے ادارے پر نہیں بلکہ چند جرنیلوں پر ہے جنہوں نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا۔ہو سکتا ہے وہ درست کہتے ہوں لیکن کوئی تحریک انصاف کے ووٹروں اور سپورٹروں کو تو دیکھے اور سنے کہ وہ خان صاحب کی باتوں سے متاثر ہو کر اپنی ہی فوج کے بارے میں کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نے گزشتہ چھ سات ماہ کے دوران جو طوفانِ بدتمیزی فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت کے خلاف برپا کیے رکھا اُس کی ہماری تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ کوئی خان صاحب کو سمجھائے کہ وہ خود جو چاہے سوچتے ہوں، اُنکے فوج مخالف بیانیے سے اُن کے فالوورز کی بڑی تعداد اپنی ہی فوج کے خلاف گمراہ ہو چکی ہے جو پاکستان کے لیے بہت زیادہ خطرناک ہے۔انصار عباسی کہتے ہیں کہ وزیر آباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کرنے والا مذہبی جنونی شوٹر زندہ پکڑا گیا، اُس کا بیان بھی سامنے آ گیا ، نہ حملہ آور نے کسی سازش کی بات کی، اور

نہ پولیس یا کسی اور ادارے اور ایجنسی نے اسے کسی سازش کا نتیجہ قرار دیا۔ لیکن حملے والے دن ہی شام کو خان صاحب نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے علاوہ ایک میجر جنرل کا نام لے کر تینوں پر قاتلانہ حملے کی سازش تیار کرنے کا الزام عائد کر دیا۔ خان صاحب کے الزام کی تحقیق ہونی چاہیے، ہوسکتا ہے وہ غلط ہوں لیکن اُن کے ماننے والے، چاہنے والے ووٹرز سپورٹرز تو یقین کر بیٹھے ہیں کہ خان صاحب پر انہی لوگوں نے حملہ کروایا ہے۔انصار عباسی کہتے ہیں کہ کینیا میں ارشد شریف کے قتل کی خبر پاکستان پہنچنے کی دیر تھی کہ خان صاحب اور ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے اپنے ہی اداروں پر الزام لگانا شروع کر دیا۔ آج بھی بڑے یقین سے خان صاحب، اُن کے ساتھی اور ووٹرز بھی یہی الزام لگا رہے ہیں کہ ارشد شریف کی ٹارگٹ کلنگ کرائی گئی، حالاں کہ اب جو حقائق وہاں سے سامنے آ رہے ہیں وہ کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ حال یہ ہے کہ خان صاحب کا گھڑی سکینڈل سامنے آیا تو موصوف نے یہ ٹوئیٹ کر دی کہ جیو ٹی وی کے پیچھے بھی ہینڈلرز ہیں۔ ماضی میں عمران نے فوج اور اس کی قیادت کو نیوٹرل رہنے پر بار بار جانور ہونے کے طعنے دئیے، انہوں نے اپنی حکومت کے خاتمے کو امریکی سازش سے جوڑا اور اس نام نہاد سازش کو کامیاب بنانے کا الزام اداروں پر لگاتے ہوئے انہیں ہینڈلرز قرار دے دیا۔انصار عباسی کہتے ہیں کہ جب عمران خان

حکومت میں تھے تو فوج کی قیادت کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے لیکن اب کہتے ہیں کہ اُن کے پاس تو اختیار ہی نہ تھا۔عمران نے فوج اور اس کی قیادت پر اتنے الزامات لگا دئیے ہیں کہ اب کہیں رکنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ یہاں تک کہ موصوف نےآنے والے آرمی چیف کے متعلق بھی سیاسی نوعیت کے سوال کھڑے کر دئیے ہیں۔ انکی پوری کوشش ہے کہ جو بھی آرمی چیف بنے اُسے بھی تعینات ہونے سے پہلے ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے۔ خان صاحب کے اس سارے بیانیے کا مقصد اداروں کو اپنی حمایت میں اور موجودہ حکومت کے خلاف کھڑا کرنا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ فوج موجودہ حکومت کے خاتمے اور فوری الیکشن کے انعقاد لیے اُن کی مدد کرے حالانکہ موجودہ حکومت کی معیاد اگست میں ختم ہونی ہے۔ دراصل عمران جو چاہتے ہیں وہ فوج کو مزید سیاست میں گھسیٹنے کے مترادف ہے جب کہ ادارہ غیر سیاسی ہونے کا اعلان کر چکا ہے۔انصار عباسی کہتے ہیں کہ ایسے میں کوئی ہے جو خان صاحب کو سمجھائے کہ جنگ مخالفین سے کی جاتی ہے نہ کہ اپ ے قومی اداروں سے اور وہ بھی ایسی فوج سے جو کہ پاکستان کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

close