HomePAKISTAN30 سال سے شوگر کا مریض ہوں ، مگر دوائی استعمال کیے...

30 سال سے شوگر کا مریض ہوں ، مگر دوائی استعمال کیے بغیر شوگر پر میرا کنٹرول ہے ، آخر کیسے ؟ جاوید چوہدری کی زبردست معلوماتی تحریر


لاہور (ویب ڈٰیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔مجھے شوگر کا مرض پہلے لاحق ہوا تھا یا صحافت کا عارضہ‘ میں آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکا تاہم یہ طے ہے یہ دونوں امراض لاعلاج ہیں۔انسان جس طرح ایک بار صحافی بننے کے بعد تاحیات صحافی ہی رہتا ہے خواہ وہ

کتنا ہی سمجھ دار اور تجربہ کار کیوں نہ ہو جائے بالکل اسی طرح آپ اگر ایک بار شوگر کے مریض بن گئے تو پھر آپ قبر تک اس سے جان نہیں چھڑا سکتے۔میں بھی یہ سمجھتا تھا مگر میں آج شوگر کے عالمی دن پر یہ جسارت کر رہا ہوں میں نے اس مرض کو کم از کم 80 فیصد کنٹرول کر لیا ہے‘ گومیرے دوست گرو زاہد عرفان اور ڈاکٹر خالد جمیل دعویٰ کر رہے ہیں میں سو فیصد ’’نان ڈائیابیٹک‘‘ ہو چکا ہوں مگر میں خوف یا شوگر سے محبت کی وجہ سے اپنے آپ کو 20 فیصد کا مارجن دے رہا ہوں۔میری رپورٹس ماشاء اللہ سو فیصد ٹھیک ہیں‘ شوگر کا تین مہینے کا ٹیسٹ ایچ بی اے ون سی ایک سال سے پانچ اعشاریہ سات ہے‘ خون کے باقی تمام ٹیسٹ بھی شان دار ہیں اور میں اس وقت عملاً ’’زیرو میڈی سن‘‘ ہوں اور میں اللہ کے لاکھ لاکھ کرم سے کسی قسم کی کوئی دوا استعمال نہیں کر رہا اور چون سال کی عمر میں 25 سال کی عمر سے بہتر زندگی گزار رہا ہوں۔سوال یہ ہے میں اس لیول پر کیسے آیا؟ یہ ایک طویل داستان ہے اور میں یہ داستان آپ کو اس نیت سے سنا رہا ہوں شاید آپ میری طرح اس مرض کو شکست دے لیں‘ آپ بھی شاید اللہ کے کرم سے ایک صحت مند زندگی گزار سکیں۔میں اپنی داستان 1993 سے اسٹارٹ کرتا ہوں‘میں شوگر کا مریض ہوں‘ مجھے یہ اطلاع 1993 میں ملی تھی‘ میں اس وقت 25 سال کا نوجوان تھا اور مجھے عین جوانی میں یہ مرض

لاحق ہو گیا‘ میں کیوں کہ فطرتاً ضدی انسان ہوں‘ کام یابی یا موت میرے سامنے بس دو ہی آپشن ہوتے ہیں چناں چہ میں نے شوگر کے خلاف لڑنا شروع کر دیا۔میں نے بھی دنیا کے 90 فیصد مریضوں کی طرح شروع میں ادویات لیں لیکن مرض کنٹرول نہ ہو سکا چناں چہ انسولین شروع کر دی‘ 20 سال انسولین لگاتا رہا اور انسولین‘ فوڈ مینجمنٹ‘ ایکسرسائز اور پازیٹو تھنکنگ سے جیسے تیسے شوگر کے برے اثرات سے بچتا رہا لیکن پھر اس مرض کے اثرات نظر آنے لگے‘ زیادہ اور طویل واک کی وجہ سے گھٹنوں میں درد ہو گیا اور چلنے پھرنے میں دقت ہونے لگی‘ ٹانگوں اور پائوں کو خون سپلائی کرنے والی وینز بھی دب گئیں چناں چہ میں پتلون نہیں پہن سکتا تھا۔میرے پاس کھلے ٹرائوزر اور شلوار قمیض کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا‘ میری دونوں آنکھوں کا ریٹنا بھی متاثر ہونے لگا‘ مجھے دھندلا نظر آتا تھا‘ میرے چہرے کی سکن بھی بری طرح تباہ ہو گئی اور میں اچھا خاصا ’’فٹے منہ‘‘ ہو گیا‘ میں اب گھٹنوں اور کولیسٹرول کی ادویات کھانے پر بھی مجبور ہو گیا اور مجھے آنکھوں میں انجیکشن بھی لگوانا پڑ گئے اور میری واک بھی بند ہو گئی‘ میرے پاس صرف دو آپشن تھے‘ میں مرض کے ہاتھوں میں سرینڈر کر دیتا یا پھر میں نئے سرے سے اس کے ساتھ لڑائی شروع کر دیتا۔میں کیوں کہ فطرتاً ڈھیٹ اور ضدی ہوں لہٰذا میں نے نئے سرے سے لڑائی کا فیصلہ کر لیا‘ میں نے شوگر کو دوبارہ پڑھنا شروع کیا تو پتا چلا

امریکا اور یورپ میں انقلاب آ چکا ہے‘ ہزاروں لوگ شوگر سے مستقل جان چھڑا کر اب ایک صحت مند زندگی گزار رہے ہیں‘ مجھے پتا چلا ڈاکٹر جیسن فنگ‘ ڈاکٹر ولیم ڈیوس اور ڈاکٹر ایرک برگ نام کے ڈاکٹر ہزاروں لوگوں کی زندگی بدل چکے ہیں‘ کیٹو ڈائٹ‘ لوکارب اور انسولین ریزسٹینس کے نام سے نئی تھیوریاں آ چکی ہیں‘ بھارت میں بھی درجنوں ویل نیس سینٹر لوگوں کو ٹریننگ دے کر انھیں ’’شوگر فری‘‘ بنا رہے ہیں۔میں پڑھتا گیا اور میری آنکھیں کھلتی چلی گئیں‘ پاکستان میں ڈاکٹر خالد جمیل نے اس پر کام کیا تھا‘ یہ گردوں کے سرجن ہیں‘یہ خود بھی شوگر کے مریض تھے‘ ڈاکٹرز نے انھیں بھی جواب دے دیا تھا لہٰذا یہ بھی لوکارب اور کیٹو ڈائیٹ پر شفٹ ہوئے اور شوگر کے عذاب سے باہر آ گئے‘ ڈاکٹر صاحب نے اب اپنے آپ کو دوسروں کی رہنمائی کے لیے وقف کر دیا ہے‘ میرا ان سے رابطہ ہو گیا‘ اس دوران زاہد عرفان سے بھی ملاقات ہوئی‘ یہ بھی خوف ناک شوگر کے بعد شوگر فری زندگی گزار رہے تھے‘ میں نے انھیں گرو کا خطاب دیا اور پھر ان دونوں کی مدد سے کام شروع کر دیا۔شوگر ری ورسل کا فارمولا بہت آسان ہے‘ ہم لوگ اناج زیادہ کھاتے ہیں‘ ہماری خوراک روٹی‘ چاول‘ دالوں‘ چینی اور کوکنگ آئل پر مشتمل ہے اوریہ پانچوں چیزیں شوگر‘ بلڈ پریشر‘ یورک ایسڈ‘ جوڑوں کا درد اور موٹاپا پیدا کرتی ہیں اورآپ اگر ان کے ساتھ سگریٹ نوشی بھی کرتے ہیں یا مے نوشی کرتے ہیں تو پھر آپ کے بچنے کے چانسز نہ ہونے کے برابر ہو جاتے ہیں‘ میں اللہ کے رحم سے مے نوشی اور سگریٹ سے پوری زندگی محفوظ رہا

لہٰذا میرا ایشو صرف خوراک تھی۔میں نے روٹی‘ چاول‘ چینی‘ دالیں اور کوکنگ آئل چھوڑ دیااور خود کو سبزیوں‘ گوشت‘ مچھلی‘ انڈوں‘ دیسی گھی اور تازہ پھلوں پر شفٹ کر دیا‘ میرا جسم اس تبدیلی کے لیے تیار نہیں تھا لہٰذا میرا وزن تیزی سے گرنے لگا‘ میرا وزن دو ماہ میں 13 کلو کم ہو گیااور میں دیکھنے والوں کو بیمار دکھائی دینے لگا‘ میں خود بھی گھبرا گیا لیکن جب ٹیسٹ کرائے تو وہ تمام شان دار تھے چناں چہ میرے پاس اس کے بعد دو آپشن تھے‘ میں صحت مند دکھائی دوں یا پھر صحت مند ہو جائوں۔میں نے دوسرا آپشن لے لیااور کسی تنقید کی پروا نہیں کی اور یوں میں چھ ماہ میں نان ڈائیا بیٹک بھی ہو گیا اور میرے گھٹنوں کا درد بھی ختم ہو گیا‘ آنکھیں بھی ٹھیک ہو گئیں اور میںبیس سال چھوٹا بھی دکھائی دینے لگا‘ میں آج نہ ہونے کے برابر انسولین لگاتا ہوں‘ یہ نہ بھی لگائوں تو بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن کیوں کہ 22 سال سے انسولین لگا رہا ہوں اور میری باڈی کو اس کی عادت پڑ چکی ہے لہٰذا میں تھوڑے سے یونٹس لگا کر خود کو مطمئن کر لیتا ہوں‘ ایکسرسائز کرتاہوں‘ کم کھاتا ہوں‘ نیند پوری لیتا ہوں‘ خوش رہنے کی کوشش کرتا ہوں اور اللہ کی نعمتیں گن گن کر اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔گرو زاہد عرفان ایک پرائیویٹ فرم میں کام کرتا تھا‘ میں نے اس کی منت کر کے اس سے نوکری چھڑا دی اور یہ اب ’’مائینڈ چینجر‘‘ کے ساتھ مل کر لوگوں کو ٹریننگ دے رہا ہے‘ ہمارا پیغام بڑا سادہ ہے‘ دنیا کی ہر بیماری کچن سے اسٹارٹ ہوتی ہے

اور یہ کچن ہی سے ٹھیک ہوسکتی ہے‘ آپ کا اگر وزن زیادہ ہے یا آپ بلڈ پریشر‘ شوگر‘ گردوں اور دل کے امراض کے شکار ہیں تو آپ بس خود سے یہ سوال پوچھ لیں ’’آپ بیمار کیسے ہوئے؟آپ چند لمحوں میں بیماری کی جڑ تک پہنچ جائیں گے‘ یقین کریں 90 فیصد امراض کچن سے اسٹارٹ ہوتے ہیں اوریہ کچن ہی سے ختم ہوتے ہیں لہٰذا آپ کو میدانوں اور پارکوں میں پاگلوں کی طرح دوڑنے کی ہرگز ضرورت نہیں‘ آپ بس خوراک کنٹرول کر لیں‘ آپ کی تمام بیماریاں کنٹرول ہو جائیں گی‘ انسان کے پاس دو آپشن ہوتے ہیں‘ یہ خوراک اور ایکسرسائز سے بیماریوں کو کنٹرول کر لے یا پھر یہ ادویات کھاتا رہے۔پہلے آپشن میں آپ کی کوالٹی آف لائف بہتر ہو جاتی ہے جب کہ دوسرے آپشن میں آپ کی ادویات بھی بڑھتی رہتی ہیں اور آپ کی کوالٹی آف لائف بھی دن بدن گرتی چلی جاتی ہے‘ آپ آج سے ستر اسی سال پیچھے چلے جائیں‘ آپ کو لوگ سادہ کھانا کھاتے اور کھیتوں میں کام کرتے نظر آئیں گے‘ اس زمانے میں پورے شہر میں ایک آدھ ڈاکٹر ہوتا تھا لیکن آج ہرگلی میں دس دس ڈاکٹرز ہیں اور ہم میں ہر شخص شام کو کیمسٹ سے دوائیں خرید کر گھر آتا ہے‘ کیوں؟آپ نے کبھی سوچا؟ میرے والد نے ایک دوائی شروع کی تھی اور وہ انتقال سے قبل 16 دوائیں کھا رہے تھے اور ان کی صحت بھی بد سے بدتر ہوتی چلی جا رہی تھی لہٰذا آپ کے پاس ایک ہی آپشن بچتا ہے آپ دوائیں کھائیں یا پھر خوراک کو دوا بنا لیں‘ میرا مشورہ ہے آپ اپنا علاج کچن اور ڈائننگ ٹیبل پر کریں اور اگر اس کے باوجود کوئی کسر رہ جائے تو پھر ایکسرسائز کریں‘ آپ کی زندگی بدل جائے گی اور میں خود اس کی مثال ہوں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

close